حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین حامد کاشانی نے حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و منزلت اور آپ کی رحلت کے بعد حق کے انکار کے اسباب پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اسلام کے واقعات سے سبق حاصل کرنے کے لیے حق کو قبول کرنے میں حائل رکاوٹوں کو پہچاننا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حسد، کینہ، رقابت اور ذاتی مفادات انسان کو حق قبول کرنے سے روک سکتے ہیں۔ بعض اوقات انسان حقیقت سے ناواقف ہوتا ہے اور آگاہ ہونے کے بعد اپنی اصلاح کر لیتا ہے، لیکن کبھی مسئلہ لاعلمی نہیں بلکہ ایسے ذاتی تعلقات اور مفادات ہوتے ہیں جو انسان کو پہچانی ہوئی حقیقت پر عمل کرنے سے روکتے ہیں۔
حجت الاسلام کاشانی نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ حضرت جعفر بن ابی طالب، ابوذر غفاری، عمار یاسر اور زید بن صوحان جیسے شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنی صلاحیت اور موقع کے مطابق حق کی حمایت میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے حضرت عمار یاسر کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روایت اور ان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے حق و باطل کی پہچان کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق حق کی حمایت کرنی چاہیے۔ اجتماعات میں شرکت، اہل خانہ اور دوستوں کے درمیان آگاہی، ثقافتی اور فنون کے ذریعے معارف اہل بیت علیہم السلام کی ترویج، حق کی حمایت کے اہم میدان ہیں۔
حرم مطہر کے خطیب نے آخر میں کہا کہ معاشرے میں بے حسی اسے فتنوں کے مقابلے میں کمزور بناتی ہے۔ اس لیے ولایت کے راستے پر ثابت قدمی، باہمی اتحاد اور اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ اعتقادی و عملی وابستگی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ